پیٹرول سبسڈی 10 ماہ تک جاری: 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا بڑا اعلان
Sasta Petrol Scheme کو لے کر حکومتِ پاکستان نے عوام کے لیے بڑی خبر دے دی ہے۔ وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے 28 ستمبر 2026 کو لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت پیٹرول سبسڈی اسکیم کو ضرورت پڑنے پر 10 ماہ تک جاری رکھ سکتی ہے۔
یعنی فی لیٹر 100 روپے کا ریلیف ملنے والا یہ پروگرام عارضی نہیں بلکہ حکومت اسے ایک طویل مدتی امدادی نظام کے طور پر چلانے کا عزم رکھتی ہے۔ اس آرٹیکل میں ہم آپ کو وزیر کے مکمل اعلان، اسکیم کے بجٹ، اب تک کے اعداد و شمار، اہلیت کی شرائط اور رجسٹریشن کے طریقے کی مکمل تفصیل بتائیں گے۔ Sasta Petrol Scheme سے متعلق ہر اہم سوال کا جواب آپ کو اسی آرٹیکل میں ملے گا۔
28 ستمبر کو وزیرِ پیٹرولیم نے کیا اعلان کیا؟ — Sasta Petrol Scheme
لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے اور انہیں ریلیف پہنچانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا: “پیٹرول سبسڈی اسکیم عوام کے لیے جاری رہے گی، چاہے اسے 10 ماہ تک چلانا پڑے۔”
وزیر کے مطابق حکومت اس وقت اسکیم پر ماہانہ 35 سے 40 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر اسکیم کو مزید 10 ماہ تک چلانا پڑا تو حکومت اپنے بجٹ سے 400 سے 500 ارب روپے مختص کرے گی اور ضرورت پڑنے پر اپنے اخراجات میں کٹوتی کر کے بھی عوام کو یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ وزیرِ پیٹرولیم نے یقین دہانی کرائی کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا پورا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضرورت پڑی تو یہ سبسڈی جاری جنگ کے خاتمے تک بھی جاری رکھی جا سکتی ہے تاکہ عوام کو اس کے اثرات سے بچایا جا سکے۔
پیٹرول ریلیف اسکیم کی مزید کوریج ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
400 سے 500 ارب روپے کا بجٹ — حکومت کا پلان کیا ہے؟
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ Sasta Petrol Scheme کے لیے یہ بھاری رقم کہاں سے آئے گی۔ وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق حکومت اپنے وسائل سے 400 سے 500 ارب روپے تک کی رقم Sasta Petrol Scheme کے لیے مختص کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لیے پُرعزم ہے، اور اگر ضرورت پڑی تو حکومت اپنے دیگر اخراجات کم کر کے اسکیم کے لیے فنڈز نکالے گی۔
انہوں نے سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پچھلی انتظامیہ کی غلطیاں نہیں دہرائے گی جس نے ان کے بقول بغیر مناسب تیاری کے ریلیف کا اعلان کر کے ملک کو ڈیفالٹ کے قریب پہنچا دیا تھا۔ وزیر کا دعویٰ تھا کہ موجودہ حکومت نے ہر اعلان کے پیچھے مکمل مالی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ Sasta Petrol Scheme طویل مدت تک بلا تعطل چلائی جا سکے۔
یاد رہے کہ Sasta Petrol Scheme وزیراعظم شہباز شریف نے شروع کی تھی جس کے تحت اہل موٹر سائیکل سواروں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے تک کا ریلیف دیا جا رہا ہے۔ اس petrol subsidy Pakistan پروگرام کی سب سے نمایاں بات اس کا ٹیکنالوجی پر مبنی شفاف نظام ہے جس کے ذریعے ٹوکن جنریٹ کیے جاتے ہیں۔
اسکیم میں اب تک کتنے لوگ مستفید ہو چکے ہیں؟ تازہ اعداد و شمار
وفاقی وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے 26 ستمبر 2026 کو پریس کانفرنس میں اسکیم کے تازہ ترین اعداد و شمار پیش کیے تھے، جن کی وزیرِ پیٹرولیم نے 28 ستمبر کو بھی تصدیق کی۔ Sasta Petrol Scheme کے تازہ اعداد یہ ہیں:
مجموعی رجسٹریشن: 59 لاکھ سے زائد (تقریباً 60 لاکھ)۔ جنریٹ شدہ فیول ریلیف ٹوکن: 61.8 لاکھ۔ کامیابی سے ریڈیم کیے گئے ٹوکن: 47.9 لاکھ۔ پنجاب میں ریڈیم ٹوکن: 30.7 لاکھ۔ سندھ میں ریڈیم ٹوکن: 12.1 لاکھ۔ خیبر پختونخوا میں ریڈیم ٹوکن: 2,67,460۔ اسلام آباد میں ریڈیم ٹوکن: 2,10,032۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں بالترتیب 23,796، 4,845 اور 6,761 ٹوکن ریڈیم ہوئے۔
وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق ملک میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں ہیں جو تقریباً 20 سال پرانی ہیں — یہی وجہ ہے کہ Sasta Petrol Scheme کا دائرہ اتنا وسیع ہے۔ انہوں نے Sasta Petrol Scheme کے تحت پیٹرول پمپ مالکان کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بغیر کسی اضافی فیس کے یہ سہولت صارفین تک پہنچائی۔
کون لوگ اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ اہلیت کی شرائط
حکومت نے عوامی ردعمل پر Sasta Petrol Scheme کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ تازہ ترین ہدایات کے مطابق اہلیت کی شرائط یہ ہیں:
- موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی: دو اور تین پہیوں والی تمام گاڑیاں اہل ہیں۔
- چھوٹی کاریں: 800cc تک کی کاریں بھی اسکیم میں شامل ہیں۔ 800cc سے بڑی گاڑیاں اہل نہیں۔
- پانچ لیٹر کی حد ختم: حکومت نے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگچی کے لیے پانچ لیٹر کی حد ختم کر دی ہے۔
- ملکیت کی شرط میں نرمی: کرائے کی موٹر سائیکل یا رکشہ چلانے والوں کے لیے مالکانہ حق کی شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔
- کمپنی کی گاڑیاں: کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ گاڑیاں اسکیم میں شامل نہیں۔
- گاڑی فرد کے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔
Sasta Petrol Scheme کی نگرانی وزارتِ آئی ٹی کے 24/7 کنٹرول روم سے کی جا رہی ہے جو رجسٹریشن سے لے کر ٹوکن کے استعمال تک کے پورے عمل کو دیکھتا ہے۔ کسی بھی مسئلے کی صورت میں شہری ہیلپ لائن 9771 پر رابطہ کر سکتے ہیں یا سرکاری ویب سائٹ pmfuelrelief.pk سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
رجسٹریشن کا طریقہ — 9771 پر مفت SMS
اگر آپ ابھی تک اسکیم میں رجسٹرڈ نہیں ہیں تو طریقہ بہت آسان ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر 9771 پر SMS مکمل طور پر مفت ہے۔ رجسٹریشن کے لیے SMS میں لکھیں: REG، پھر اپنا شناختی کارڈ نمبر، پھر گاڑی کا نمبر پلیٹ، پھر صوبے کا پہلا حرف (پنجاب کے لیے P، سندھ کے لیے S، خیبر پختونخوا کے لیے K، بلوچستان کے لیے B، اسلام آباد کے لیے I، آزاد کشمیر کے لیے A، گلگت بلتستان کے لیے G) اور آخر میں رجسٹریشن کی تاریخ — ہر جزو کے درمیان خالی جگہ رکھیں۔
رجسٹریشن کے بعد Sasta Petrol Scheme کا ٹوکن حاصل کرنے کے لیے “TOK” لکھ کر 9771 پر بھیجیں۔ ٹوکن میں گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، اجازت شدہ مقدار اور میعاد درج ہوتی ہے۔
رجسٹریشن کے مکمل طریقے، درکار دستاویزات اور پیٹرول پمپس پر قائم سہولتی ڈیسکوں کی تفصیل ہماری مکمل گائیڈ PM Fuel Relief Scheme 2026: 58 Lakh Registered میں پڑھ سکتے ہیں، جبکہ اسکیم کی بنیادی معلومات پیٹرول سبسڈی 2026 والے آرٹیکل میں موجود ہیں۔ Sasta Petrol Scheme میں رجسٹریشن کے بعد اہل موٹر سائیکل سواروں کو ہفتہ وار بنیادوں پر فیول ٹوکن جاری کیے جاتے ہیں۔
1000 روپے فی لیٹر والا بیان — وزیر کی وضاحت
گزشتہ ہفتے Sasta Petrol Scheme کے حوالے سے وزیرِ پیٹرولیم کے ایک بیان نے خاصی توجہ حاصل کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پیٹرول کی قیمتیں 1000 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہیں۔ 28 ستمبر کی میڈیا گفتگو میں انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا۔ ان کے بقول ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر پیٹرول کی قلت پیدا ہو جائے تو قیمتوں پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا — یہ کوئی قیمت کی پیش گوئی نہیں تھی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ وزیراعظم کے بہتر فیصلوں کی بدولت پاکستان میں پیٹرول کی کوئی قلت نہیں ہوگی اور حکومت ایندھن کی صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہی ہے۔ پیٹرول پمپس کو 24 گھنٹے کے سائیکل میں ادائیگیاں کی جا رہی ہیں تاکہ Sasta Petrol Scheme بلا رکاوٹ چلتی رہے۔
تیل کی قیمتوں پر سیاسی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے
دوسری جانب Sasta Petrol Scheme سمیت ایندھن کی قیمتوں پر سیاسی دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے پیٹرول کی قیمتیں کم کرنے، پیٹرولیم لیوی ختم کرنے اور سرکاری اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی مارچ جاری رہے گا اور اس سلسلے میں ملک گیر دستخطی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ Sasta Petrol Scheme جیسے ٹارگٹڈ ریلیف پروگرام کے ذریعے وہ براہِ راست ان شہریوں تک سہولت پہنچا رہی ہے جو ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ petrol prices Pakistan 2026 کے تناظر میں Sasta Petrol Scheme غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک اہم سہارا بن چکی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا پیٹرول سبسڈی اسکیم واقعی 10 ماہ تک جاری رہے گی؟
جواب: وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے 28 ستمبر 2026 کو اعلان کیا کہ حکومت Sasta Petrol Scheme کو ضرورت پڑنے پر 10 ماہ تک جاری رکھے گی اور اس کے لیے 400 سے 500 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
سوال: Sasta Petrol Scheme میں فی لیٹر کتنا ریلیف ملتا ہے؟
جواب: اہل صارفین کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے تک کا ریلیف ملتا ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو ہفتہ وار ٹوکن پر تقریباً 500 روپے اور چھوٹی گاڑیوں کو ماہانہ 3000 روپے تک کی بچت ہوتی ہے۔
سوال: 9771 پر SMS بھیجنا مفت ہے؟
جواب: جی ہاں، وزیراعظم کی ہدایت پر 9771 پر رجسٹریشن SMS مکمل طور پر مفت ہے۔ fuel relief token 9771 کے ذریعے آپ Sasta Petrol Scheme میں رجسٹریشن اور ٹوکن دونوں حاصل کر سکتے ہیں۔
سوال: کیا 800cc سے بڑی گاڑی Sasta Petrol Scheme میں شامل ہے؟
جواب: نہیں، صرف 800cc تک کی کاریں اہل ہیں۔ اس سے بڑی گاڑیاں، کمپنی کی گاڑیاں اور غیر رجسٹرڈ گاڑیاں اسکیم میں شامل نہیں۔
سوال: اگر ٹوکن ریڈیم نہ ہو تو کیا کریں؟
جواب: ہیلپ لائن 9771 پر رابطہ کریں یا سرکاری ویب سائٹ pmfuelrelief.pk وزٹ کریں۔ وزارتِ آئی ٹی کا 24/7 کنٹرول روم Sasta Petrol Scheme سے متعلق شکایات کے فوری حل کے لیے کام کر رہا ہے۔
نتیجہ
Sasta Petrol Scheme کی 10 ماہ تک ممکنہ توسیع حکومت کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ مشکل معاشی حالات میں بھی عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کرتی رہے گی۔ 60 لاکھ سے زائد رجسٹریشن اور 47.9 لاکھ ریڈیم شدہ ٹوکن اس بات کا ثبوت ہیں کہ Sasta Petrol Scheme لاکھوں گھرانوں کی روزمرہ زندگی میں حقیقی فرق ڈال رہی ہے۔ اگر آپ اہل ہیں اور ابھی تک Sasta Petrol Scheme میں رجسٹرڈ نہیں ہوئے تو 9771 پر مفت SMS بھیج کر آج ہی رجسٹریشن مکمل کریں۔
🔗 سرکاری ماخذ (Official Source): https://www.pakistan.gov.pk/
