
پنجاب میں فیول سبسڈی انکار پر پٹرول پمپوں کے خلاف ایکشن
پنجاب میں پیٹرول سبسڈی اسکیم کے تحت ریلیف سے انکار کرنے والے پٹرول پمپوں کے خلاف بڑی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔ پنجاب کے چیف سیکرٹری نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان پٹرول پمپوں کے خلاف فوری ایکشن لیں جو حکومت کی فیول سبسڈی اسکیم کے تحت شہریوں کو سبسڈی والا پٹرول دینے سے انکار کر رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری نے واضح کیا کہ انفورسمنٹ پر کسی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہ لایا جائے۔
پٹرول سبسڈی پنجاب کی تازہ صورتحال یہ ہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پنجاب میں پٹرول سبسڈی پنجاب کے تحت اب تک 46 لاکھ سے زائد افراد رجسٹر ہو چکے ہیں۔ فیول ریلیف اسکیم صارفین کے لیے فی لیٹر 100 روپے کی رعایت فراہم کرتی ہے، اور اب صوبائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی پمپ کو مستحق شہریوں کا حق چھیننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پٹرول سبسڈی پنجاب: چیف سیکرٹری کا حکم اور ڈپٹی کمشنرز کی کارروائی
لاہور میں جاری ہدایات کے مطابق پنجاب کے چیف سیکرٹری نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو پابند کیا ہے کہ وہ فیول ریلیف سے انکار کرنے والے پٹرول پمپوں کے خلاف بھرپور ایکشن لیں۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ پمپوں کی نگرانی کی جائے اور جہاں سبسڈی سے انکار کی شکایت ملے، وہاں فوری قانونی کارروائی کی جائے۔
چیف سیکرٹری کا کہنا ہے کہ حکومت کی فیول سبسڈی اسکیم میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور انفورسمنٹ مکمل غیر جانبداری سے کی جائے گی۔ اس حکم کے بعد صوبے بھر کے ڈپٹی کمشنرز نے پٹرول پمپوں کی انسپیکشن تیز کر دی ہے۔
پیٹرولیم وزیر کا جائزہ: 8500 پمپوں کو ادائیگیاں
اسی دوران وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے فیول ریلیف اسکیم کے نفاذ کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اسکیم میں شامل تقریباً 10,000 پٹرول پمپوں میں سے 8,500 سے زائد پمپوں کو ادائیگیاں کر دی گئی ہیں۔ وزیر پیٹرولیم نے پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کو ہدایت کی کہ ممکنہ سپلائی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے اپنے ڈیپوز میں اضافی فیول کا ذخیرہ رکھے۔
حکام نے بتایا کہ اسکیم کے بروقت نفاذ کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان رابطے کو مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی میں کوئی خلل نہ آئے۔ وزیر پیٹرولیم نے اوگرا (OGRA) کو بھی ہدایت کی کہ وہ ان پٹرول اسٹیشنوں کے خلاف کارروائی کرے جو اہلیت کے حامل صارفین کو ریلیف دینے سے انکار کریں۔
پٹرول سبسڈی پنجاب میں 46 لاکھ رجسٹرڈ — تازہ ترین اعداد و شمار
پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری افتخار علی ساہو کے مطابق صوبے میں اب تک 46 لاکھ سے زائد افراد فیول سبسڈی اسکیم میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اب تک 55 لاکھ افراد کو فیول ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 44 لاکھ سے زائد شہری ٹوکن حاصل کرنے کے بعد اسکیم سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
افتخار علی ساہو کے مطابق پنجاب کے 6,420 پٹرول پمپوں پر رجسٹرڈ شہری ٹوکن دکھا کر سبسڈی والا پٹرول حاصل کر رہے ہیں۔ اسکیم کے نفاذ کی نگرانی کے لیے صوبے بھر میں مختلف انسپیکشن ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو پٹرول پمپوں کا دورہ کر کے سبسڈی کی فراہمی کے عمل کا جائزہ لیتی ہیں۔ عوامی آگاہی کے لیے تمام پمپوں پر بینرز لگائے گئے ہیں اور شہریوں کی رہنمائی کے لیے ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔
ملک بھر کی سطح پر اسکیم میں اب تک 50 لاکھ سے زائد افراد رجسٹر ہو چکے ہیں اور تقریباً 37 لاکھ فیول ٹوکن پٹرول پمپوں پر استعمال ہو چکے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق پٹرول اسٹیشنوں نے 43,036 کلیمز جمع کروائے، جن میں سے 41,744 کلیمز نمٹا دیے گئے اور 1.35 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی — یعنی کلیمز کا 97 فیصد حصہ کلیئر ہو چکا ہے۔
فیول ریلیف اسکیم کیا ہے؟ — مکمل تفصیل
وزیر اعظم کی فیول سبسڈی اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو فی لیٹر 100 روپے کی رعایت دی جا رہی ہے۔
پٹرول سبسڈی پنجاب کے تحت اہل گاڑیوں کے لیے رعایت کی حدیں یہ ہیں:
- موٹر سائیکل اور رکشہ: ایک ٹوکن پر 5 لیٹر پٹرول (500 روپے کی رعایت)، ہفتے میں ایک بار، ماہانہ زیادہ سے زیادہ 20 لیٹر
- 800 سی سی تک کی کار: ایک ٹوکن پر 10 لیٹر پٹرول (1,000 روپے کی رعایت)، ہر 10 دن بعد، ماہانہ زیادہ سے زیادہ 30 لیٹر
اہلیت کی شرائط
- موٹر سائیکل یا تین پہیوں والی گاڑی کی رجسٹریشن 1 جنوری 2011 یا اس کے بعد کی ہو (یعنی 15 سال تک پرانی موٹر سائیکل اہل)
- 800 سی سی تک کی کار کی رجسٹریشن 1 جنوری 2006 یا اس کے بعد کی ہو (یعنی 20 سال تک پرانی کار اہل)
- اوپن لیٹر والی بائیک اور رکشہ مالکان بھی اسکیم کے اہل ہیں
- گاڑی متعلقہ صوبائی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈ میں تصدیق شدہ ہونی چاہیے
9771 رجسٹریشن کا طریقہ (مفت ایس ایم ایس)
- اپنے موبائل سے ایس ایم ایس لکھیں: REG [شناختی کارڈ نمبر] [گاڑی کا نمبر پلیٹ] [صوبے کا کوڈ] [رجسٹریشن کی تاریخ]
- پنجاب کے لیے صوبے کا کوڈ P لکھیں
- گاڑی کی رجسٹریشن تاریخ DDMMYYYY فارمیٹ میں لکھیں (مثلاً 16052017)
- یہ ایس ایم ایس 9771 پر بھیجیں — رجسٹریشن ایس ایم ایس مفت ہے
- کامیاب رجسٹریشن پر تصدیقی پیغام موصول ہوگا
اہم شرط: ایس ایم ایس اسی سم سے بھیجیں جو آپ کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہو اور آپ کے شناختی کارڈ سے منسلک ہو۔ غلط سم کی معلومات یا غلط گاڑی کی تفصیلات سے رجسٹریشن ناکام ہو سکتی ہے۔
پٹرول سبسڈی پنجاب میں رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہے۔
فیول ٹوکن حاصل کرنے کا طریقہ
رجسٹریشن کے بعد پٹرول پمپ جانے سے پہلے TOK لکھ کر 9771 پر بھیجیں۔ آپ کو ایک فیول ٹوکن ایس ایم ایس موصول ہوگا۔ پمپ پر یہ ٹوکن دکھائیں اور سبسڈی والے نرخ پر پٹرول حاصل کریں۔ ایک ٹوکن موٹر سائیکل کے لیے 7 دن اور کار کے لیے 10 دن تک کارآمد رہتا ہے۔
پیٹرول پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ سبسڈی صرف اسی گاڑی پر ملے گی جس کے لیے ٹوکن جاری ہوا ہے۔ اس لیے پمپ پر ہمیشہ رجسٹرڈ گاڑی کے ساتھ جائیں اور کسی دوسری گاڑی پر سبسڈی کا مطالبہ نہ کریں۔
پمپ سبسڈی سے انکار کرے تو شکایت کہاں کریں؟
اگر کوئی پٹرول پمپ اہل صارف کو سبسڈی دینے سے انکار کرے تو اب شکایت کا باقاعدہ نظام موجود ہے۔ پٹرول سبسڈی پنجاب کے صارفین یہ شکایتی نظام استعمال کر سکتے ہیں:
- ڈپٹی کمشنر: پٹرول سبسڈی پنجاب سے متعلق شکایات فیلڈ انفورسمنٹ کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو بھیجی جاتی ہیں — چیف سیکرٹری کے حکم کے بعد ان پر فوری ایکشن لیا جائے گا
- اوگرا: پٹرول اسٹیشن سے متعلق شکایات اوگرا کو بھیجی جاتی ہیں
- ایکسائز ڈیپارٹمنٹ: گاڑی کے ریکارڈ سے متعلق مسائل کے لیے
- صوبائی ایکسائز دفاتر میں شکایتی میکانزم: گاڑی کی رجسٹریشن کے انفرادی مسائل کے حل کے لیے الگ شکایتی نظام بھی قائم کیا جا رہا ہے
- رکشہ ڈرائیوروں کے لیے: تین پہیوں اور لوڈر رکشہ آپریٹرز کی رجسٹریشن مشکلات کے حل کے لیے پنجاب ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو رکشہ ایسوسی ایشنز کے ساتھ مل کر کام کرنے اور مخصوص رجسٹریشن سہولت قائم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے
انفورسمنٹ کی مثال کے طور پر ملتان میں ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر فیصل سلیم کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ نے پیٹرول پمپوں کی سرپرائز چیکنگ کر کے مصنوعی قلت پیدا کرنے والے 10 سے زائد پٹرول پمپ سیل کر دیے۔
متعلقہ رہنما
اگر آپ نے ابھی تک رجسٹریشن نہیں کروائی تو سب سے پہلے 9771 پر REG ایس ایم ایس بھیج کر اپنا اندراج مکمل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے ہماری ویب سائٹ پر فیول سبسڈی سے متعلق دیگر گائیڈز بھی ملاحظہ کریں: پیٹرول سبسڈی دوسری قسط 2026 اور فیول ریلیف اسکیم کی مکمل رہنمائی۔
پٹرول سبسڈی پنجاب کے صارفین کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے — اگر آپ ابھی تک رجسٹر نہیں ہوئے تو 9771 پر مفت ایس ایم ایس بھیج کر آج ہی اپنا اندراج کروائیں اور ہر مہینے پٹرول پر بچت کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
اگر پٹرول پمپ والا سبسڈی دینے سے انکار کرے تو کیا کرنا چاہیے؟
اب آپ شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ شکایات ڈپٹی کمشنر کو بھیجی جاتی ہیں اور پنجاب کے چیف سیکرٹری نے ان پمپوں کے خلاف فوری ایکشن کا حکم دیا ہے۔ پٹرول اسٹیشن سے متعلق شکایات اوگرا بھی دیکھتا ہے۔
9771 پر رجسٹریشن کا صحیح فارمیٹ کیا ہے؟
REG لکھیں، پھر اپنا 13 ہندسوں کا شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا نمبر پلیٹ، صوبے کا کوڈ (پنجاب کے لیے P) اور گاڑی کی رجسٹریشن تاریخ DDMMYYYY فارمیٹ میں لکھ کر 9771 پر بھیجیں۔
ایک ٹوکن پر کتنا پٹرول ملتا ہے؟
موٹر سائیکل یا رکشے پر ایک ٹوکن سے 5 لیٹر (500 روپے کی رعایت) اور 800 سی سی تک کی کار پر 10 لیٹر (1,000 روپے کی رعایت) ملتا ہے۔
کیا اوپن لیٹر والی موٹر سائیکل یا رکشہ اسکیم میں شامل ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، وفاقی وزیر آئی ٹی کے مطابق اوپن لیٹر والی بائیک اور رکشہ مالکان بھی فیول سبسڈی کے اہل ہیں۔
کیا ٹوکن کسی دوسری گاڑی کے لیے استعمال ہو سکتا ہے؟
نہیں۔ پیٹرول پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن کے مطابق سبسڈی صرف اسی رجسٹرڈ گاڑی پر ملے گی جس کے لیے ٹوکن جاری ہوا تھا۔
ذرائع
Abb Takk — پنجاب میں پٹرول پمپوں کے خلاف کریک ڈاؤن
Minute Mirror — 5 ملین سے زائد رجسٹریشن
UrduPoint — پنجاب میں 46 لاکھ رجسٹرڈ
🔗 سرکاری ماخذ (Official Source): https://www.punjab.gov.pk/
