Pakistan Government SchemesWafaq - All Pakistan

خبردار! 23 اکتوبر سے پرانا پاسپورٹ بند — E-Passport Pakistan 2026 لازمی، فیس بھی دگنی

پاکستان میں سفر کرنے والوں کے لیے بڑی خبر! حکومتِ پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ E-Passport Pakistan 2026 اب ملک بھر میں لازمی ہوگا اور پرانے مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ (MRP) کی نئی اشاعت 23 اکتوبر 2026 سے مکمل طور پر بند

کر دی جائے گی۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس (DGIP) کے جاری کردہ پبلک نوٹس کے مطابق 22 اکتوبر 2026 تک پرانے پاسپورٹ بنتے اور تجدید ہوتے رہیں گے، لیکن اس کے بعد نئی درخواستوں پر صرف ای پاسپورٹ 2026 ہی جاری ہوگا۔ اگر آپ کا پاسپورٹ ختم ہونے والا ہے یا آپ نے نیا پاسپورٹ بنوانا ہے تو یہ خبر آپ کے لیے انتہائی اہم ہے — اس آرٹیکل میں فیس، اہلیت، اپلائی کا طریقہ اور تمام اہم ہدایات تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔

E-Passport Pakistan 2026 کیا ہے اور اسے کیوں لازمی کیا جا رہا ہے؟

E-Passport Pakistan 2026 ایک جدید بائیومیٹرک سفری دستاویز ہے جس میں ایک الیکٹرانک چپ لگی ہوتی ہے۔ اس چپ میں پاسپورٹ ہولڈر کی ذاتی معلومات، بائیومیٹرک ڈیٹا اور چہرے کی شناختی تفصیلات محفوظ ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے جعل سازی اور شناخت کی دھوکہ دہی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ تبدیلی عالمی معیار کے مطابق پاسپورٹ نظام کو جدید بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ ای پاسپورٹ رکھنے والے مسافروں کو دنیا بھر کے بڑے ہوائی اڈوں پر خودکار ای گیٹس کی سہولت ملتی ہے، جس سے امیگریشن کا عمل تیز اور محفوظ ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں ای پاسپورٹ کا اجرا مارچ 2022 میں شروع ہوا تھا اور اگست 2023 سے ملک بھر کے تمام فیلڈ دفاتر میں یہ سہولت دستیاب ہے — اب اسے تمام نئی درخواستوں کے لیے لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔

E-Passport Pakistan 2026 کی فیس — Pakistan Passport Fee 2026 کی مکمل تفصیل

نئے نظام کے ساتھ فیسوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، اس لیے Pakistan Passport Fee 2026 جاننا ہر درخواست دہندہ کے لیے ضروری ہے۔ اخباری رپورٹس کے مطابق 36 صفحات والے 5 سالہ ای پاسپورٹ کی نارمل فیس 9,000 روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ پرانے MRP کی یہی فیس 4,500 روپے تھی۔ ارجنٹ کیٹیگری میں ای پاسپورٹ کی فیس 15,000 روپے (پرانے کی 7,500 روپے کے مقابلے میں) اور فاسٹ ٹریک کیٹیگری میں 22,000 روپے بتائی گئی ہے۔ حتمی اور تازہ ترین Pakistan Passport Fee 2026 کی تصدیق کے لیے درخواست دینے سے پہلے DGIP کی سرکاری ویب سائٹ ضرور چیک کریں، کیونکہ فیسوں میں تبدیلی ممکن ہے۔

E-Passport Pakistan 2026 کے لیے اپلائی کا طریقہ کار

ای پاسپورٹ 2026 کے لیے اپلائی کا طریقہ کار پرانے نظام جیسا ہی ہے۔ پہلی بار پاسپورٹ بنوانے والے شہری متعلقہ ریجنل پاسپورٹ آفس یا بیرون ملک پاکستانی مشن تشریف لے جائیں اور درج ذیل دستاویزات ساتھ لائیں: اصل درست شناختی کارڈ (CNIC) یا نائیکوپ مع فوٹو کاپی، پرانا پاسپورٹ اصل مع فوٹو کاپی (اگر جاری ہوا ہو)، مقررہ فیس کی ادائیگی کا ثبوت (بینک چالان یا ای پیمنٹ رسید مع PSID نمبر)، اور سرکاری ملازمین کے لیے متعلقہ محکمے کا این او سی۔ دفتر میں آپ کی تصویر اور انگلیوں کے نشانات (بائیومیٹرکس) لیے جائیں گے۔

آن لائن اپلائی کی سہولت

DGIP کی ای سروسز کے ذریعے اہل شہری آن لائن بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ آن لائن درخواست میں آپ اپنی تفصیلات درج کر کے فیس آن لائن ادا کرتے ہیں اور پھر بائیومیٹرکس کے لیے دفتر جانا ہوتا ہے۔ درخواست کی حیثیت آن لائن ٹریک بھی کی جا سکتی ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم ہدایات

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے پاکستانی سفارتخانے یا قونصلیٹ سے تازہ ترین ہدایات ضرور حاصل کریں، کیونکہ ہر مشن کے نفاذ کی تاریخ میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض مشنز نے 22 اکتوبر تک MRP اور اس کے بعد صرف ای پاسپورٹ کی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ جن مسافروں کا پاسپورٹ 6 ماہ کے اندر ختم ہونے والا ہے، انہیں مشورہ ہے کہ وہ بروقت تجدید کروا لیں تاکہ سفر میں رکاوٹ نہ آئے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے حکومت کی ایک اور اہم سکیم Pasban Remittance Scheme 2026 بھی ہے جس کے تحت بیرون ملک سے پیسے بھیجنے والوں کے خاندان انعامی سکیم میں شامل ہو سکتے ہیں۔

اہم سرکاری لنکس

مستند معلومات اور تازہ ترین اعلانات کے لیے ہمیشہ سرکاری ذرائع استعمال کریں:

  • ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس (DGIP): dgip.gov.pk
  • آن لائن پاسپورٹ سروسز: DGIP ویب سائٹ کا ای سروسز سیکشن
  • ہیلپ لائن: 111-344-777 (صبح 9 سے دوپہر 3 بجے تک)

مزید پڑھیں: سرکاری ملازمتوں کے خواہشمند NADRA Jobs October 2026 کا مکمل اعلان بھی دیکھ سکتے ہیں۔

نوٹ: یہ خبر DGIP کے پبلک نوٹس اور مستند اخباری رپورٹس (دی نیوز، ٹیک جوائس) کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ فیس اور طریقہ کار میں تبدیلی ممکن ہے، اس لیے حتمی تصدیق سرکاری ویب سائٹ سے ضرور کریں۔