
سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن توسیع 2026: 500 اسکول دوبارہ کھولنے اور سبسڈی میں اضافے کی منظوری
سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پروگراموں میں بڑے پیمانے پر توسیع کی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (SEF) کے بورڈ آف گورنرز کے چودھویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں تقریباً 500 سرکاری کمیونٹی اسکول مرحلہ وار دوبارہ کھولے جائیں گے اور فاؤنڈیشن کی سبسڈی کی شرحوں میں 2021-22 کے بعد پہلی بار نظرثانی کی جائے گی۔ اس اقدام سے صوبے کے 10 لاکھ سے زائد طلبہ کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
اس آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ اس توسیعی منصوبے میں کیا کچھ شامل ہے، سبسڈی میں اضافے کا مطلب کیا ہے، کن اسکولوں کو ترجیح دی جائے گی اور والدین و طلبہ کے لیے اس کے عملی اثرات کیا ہوں گے۔
اجلاس میں منظور کیے گئے اہم فیصلے
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، سبسڈی میں اضافے، تعلیمی معیار اور طلبہ تک رسائی بڑھانے سمیت متعدد امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں منظور ہونے والے اہم فیصلوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
- 500 اسکولوں کی دوبارہ بحالی: تقریباً 500 گورنمنٹ کمیونٹی اسکول مرحلہ وار دوبارہ کھولے جائیں گے۔ جن اسکولوں میں 100 سے زائد طلبہ موجود ہیں، انہیں بحالی میں ترجیح دی جائے گی۔
- سبسڈی کی شرحوں میں نظرثانی: سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی سبسڈی کی شرحوں میں 2021-22 کے بعد پہلی مرتبہ نظرثانی کی منظوری دی گئی، جس کے لیے سالانہ 7.9 ارب روپے اضافی فنڈنگ درکار ہوگی۔
- نئے اسکولوں کا قیام: صوبے کے ایسے علاقوں میں نئے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں گے جہاں سرکاری تعلیمی سہولتیں موجود نہیں۔
- خصوصی گرانٹس: پسماندہ اور مشکل علاقوں میں تعلیمی سہولتوں کے لیے خصوصی گرانٹ پیکج کی منظوری دی گئی۔
- بنیادی ڈھانچے کی بہتری: جن اسکولوں میں بنیادی سہولتیں ناکافی ہیں، ان کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے بھی فیصلے کیے گئے۔
سبسڈی میں اضافہ: 2021-22 کے بعد پہلی نظرثانی
اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی سبسڈی کی شرحوں میں مالی سال 2021-22 کے بعد سے کوئی نظرثانی نہیں ہوئی تھی۔ بڑھتی ہوئی لاگت اور مہنگائی کے پیش نظر شرحوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا تھا۔ منظوری کے مطابق نظرثانی شدہ سبسڈی کے لیے ہر سال 7.9 ارب روپے اضافی رقم خرچ کی جائے گی۔
اجلاس کی بریفنگ کے مطابق یہ اضافی رقم تعلیمی معیار کی بہتری، سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور طلبہ کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے پر خرچ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ کمیونٹی اسکولوں اور غیر رسمی تعلیمی پروگراموں کے لیے بھی سبسڈی میں اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔
تعلیمی سبسڈی سندھ میں کن کو فائدہ ہوگا؟
سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اس وقت صوبے میں 3,230 اسکولوں اور تعلیمی مراکز کی معاونت کر رہا ہے، جن میں 10,78,252 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ نظرثانی شدہ سبسڈی سے فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام اسکولوں کے 10 لاکھ سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے، جبکہ دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (TCF) کے زیر انتظام اداروں میں پڑھنے والے 18,000 سے زائد طلبہ بھی اس اضافے سے فائدہ اٹھائیں گے۔
مراد علی شاہ کی تعلیم کے لیے ہدایات
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس میں کہا کہ تعلیم سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور تعلیم میں سرمایہ کاری صوبے کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی دی جائے اور صوبے بھر میں تعلیمی بنیادی ڈھانچہ مضبوط بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ نے افسران کو ہدایت کی کہ تعلیمی نتائج بہتر بنائے جائیں، داخلوں میں اضافہ کیا جائے، اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم کی جائے اور اہل و تربیت یافتہ اساتذہ کی بھرتی کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جائیں۔
آؤٹ آف اسکول بچوں کے لیے داخلہ مہم
اسی ہفتے وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ اسکول ایجوکیشن کے اجلاس میں صوبے بھر میں وسیع داخلہ مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی تھی، جس کا مقصد اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں شامل کرنا ہے (ریڈیو پاکستان کے مطابق)۔ نئی منظور شدہ توسیع اسی حکمت عملی کا حصہ ہے — یعنی بچوں کو اسکول لانا اور اسکولوں کو بچوں کے لیے تیار رکھنا۔
پیپلز اسکول ماڈل: پبلک اسکول ٹنڈو آدم کی بحالی
اجلاس میں پیپلز اسکول ماڈل کے تحت پبلک اسکول ٹنڈو آدم کو فعال کرنے کے لیے بھی اضافی فنڈنگ کی منظوری دی گئی۔ یہ اقدام ان علاقوں میں معیاری تعلیمی اداروں کے قیام کی کوششوں کا حصہ ہے جہاں پہلے سے سرکاری تعلیمی سہولتیں ناکافی ہیں۔
سندھ حکومت کے اسکول منصوبے سے والدین کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ سندھ کے کسی ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں کمیونٹی اسکول بند پڑا ہے یا آپ کے بچے اسکول سے باہر ہیں، تو یہ خبریں آپ کے لیے اہم ہیں:
- اپنے علاقے کے بند کمیونٹی اسکول کی بحالی کے لیے ضلعی تعلیمی دفتر سے رابطہ رکھیں — 100 سے زائد طلبہ والے اسکولوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
- سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر انتظام اسکولوں میں داخلوں کے اعلانات پر نظر رکھیں، کیونکہ نئے تعلیمی سال میں داخلوں میں اضافے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
- غیر رسمی تعلیمی پروگرام ان بچوں کے لیے ہیں جو اسکول چھوڑ چکے ہیں — اپنے قریبی SEF مرکز سے معلومات حاصل کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے کتنے اسکول دوبارہ کھولے جائیں گے؟
وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں تقریباً 500 گورنمنٹ کمیونٹی اسکول مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کی منظوری دی گئی ہے۔ جن اسکولوں میں 100 سے زائد طلبہ ہیں، انہیں بحالی میں ترجیح دی جائے گی۔
SEF کی سبسڈی میں کتنا اضافہ کیا گیا ہے؟
سبسڈی کی شرحوں میں 2021-22 کے بعد پہلی بار نظرثانی کی گئی ہے، جس کے لیے سالانہ 7.9 ارب روپے اضافی فنڈنگ مختص کی جائے گی۔ مخصوص شرحوں کا اعلان متعلقہ نوٹیفکیشن کے ذریعے متوقع ہے۔
اس توسیع سے کتنے طلبہ مستفید ہوں گے؟
سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے 3,230 اسکولوں اور مراکز میں زیر تعلیم 10,78,252 طلبہ میں سے 10 لاکھ سے زائد طلبہ براہ راست مستفید ہوں گے، جبکہ TCF کے اداروں کے 18,000 سے زائد طلبہ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔
کیا نئے اسکول بھی قائم کیے جائیں گے؟
جی ہاں، ان علاقوں میں نئے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں گے جہاں سرکاری تعلیمی سہولتیں موجود نہیں، اور پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی گرانٹ پیکج بھی منظور کیا گیا ہے۔
یہ فیصلے کب نافذ ہوں گے؟
فیصلے 8 اکتوبر 2026 کو بورڈ کے اجلاس میں منظور ہوئے ہیں۔ اسکولوں کی بحالی مرحلہ وار ہوگی اور سبسڈی کی نظرثانی شدہ شرحیں متعلقہ نوٹیفکیشن کے بعد نافذ ہوں گی۔ تازہ ترین اعلانات کے لیے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی سرکاری ویب سائٹ دیکھتے رہیں۔
🔗 سرکاری ماخذ (Official Source): https://www.sef.org.pk/
