Government Subsidy SchemesPakistan Government SchemesSindh

سندھ گندم ریلیز 2026: 15 اکتوبر سے فلور ملز کو گندم سبسڈی

سندھ حکومت نے گندم کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگے آٹے سے پریشان صارفین کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ گندم ریلیز 2026 کے تحت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 15 اکتوبر 2026 سے فلور ملز کو سرکاری گندم سبسڈی والے نرخ پر جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت فلور ملز کو 100 کلو گرام گندم کی بوری 12,500 روپے میں ملے گی، تاکہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام آئے اور مارکیٹ میں گندم کی وافر سپلائی یقینی بنائی جا سکے۔ یہ فیصلہ 7 اکتوبر 2026 کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے اجلاس میں کیا گیا، اور اس کی تفصیلات سی ایم ہاؤس کے باضابطہ اعلامیے میں جاری کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ ریلیز کا عمل 15 اکتوبر سے شروع کیا جائے اور مارکیٹ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ سرکاری سبسڈی کا فائدہ عام صارف تک پہنچے۔

فیصلے کی اہم باتیں — ایک نظر میں

ریلیز کا آغاز: 15 اکتوبر 2026۔ ریلیز قیمت: 12,500 روپے فی 100 کلو بوری۔ موجودہ سرکاری ذخائر: 346,414 میٹرک ٹن۔ پاسکو سے اضافی گندم: 190,000 میٹرک ٹن۔ درآمدی گندم: 300,000 میٹرک ٹن۔ ریلیز کے لیے کل دستیاب گندم: 836,414 میٹرک ٹن۔ پچھلے سال جاری کی گئی گندم: 974,982 میٹرک ٹن۔

سندھ کے گندم کے ذخائر کی صورتحال

اجلاس میں وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ اس وقت صوبے بھر کے اضلاع میں حکومت کے پاس 346,414 میٹرک ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں۔ ان ذخائر میں پاسکو (Pakistan Agricultural Storage and Services Corporation) سے 190,000 میٹرک ٹن گندم اور 300,000 میٹرک ٹن درآمدی گندم کا اضافہ ہوگا، جس کے بعد ریلیز کے لیے کل دستیاب گندم 836,414 میٹرک ٹن ہو جائے گی۔

کراچی ڈویژن کے پاس اس وقت 135,948 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، جو پاسکو اور درآمدی ذخائر کی آمد کے بعد 565,948 میٹرک ٹن ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ پاسکو کے ذخائر سے حیدرآباد ریجن کے لیے 30,000 میٹرک ٹن اور میرپورخاص و شہید بینظیرآباد ریجنز کے لیے 60,000 میٹرک ٹن گندم مختص کی گئی ہے۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ پچھلے سال صوبے نے 974,982 میٹرک ٹن گندم مارکیٹ میں جاری کی تھی، اور پاسکو و درآمدی گندم کا اضافی ذخیرہ مارکیٹ سپلائی کو مزید مضبوط کر کے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے میں مدد دے گا۔

آٹے کی قیمت 2026: موجودہ صورتحال کیوں تشویشناک ہے

گندم کی قیمت سندھ میں مسلسل بڑھ رہی تھی، جس کی وجہ سے آٹے کی قیمت 2026 میں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ یکم اکتوبر کو گندم 12,400 روپے فی 100 کلو میں فروخت ہو رہی تھی اور آٹا 160 سے 165 روپے فی کلو تک پہنچ چکا تھا۔ اس کے بعد قیمتوں میں مزید اضافے کا رجحان دیکھا گیا — کراچی میں گندم تقریباً 13,200 روپے فی 100 کلو میں فروخت ہونے لگی جبکہ پرچون میں آٹے کی قیمت 165 سے 170 روپے فی کلو تک جا پہنچی۔

اس دوران فلور ملز کی جانب سے بھی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔ 9 اکتوبر کی تازہ اطلاعات کے مطابق فلور ملرز نے 8 اکتوبر (جمعرات) کو آٹے کی مختلف اقسام میں مزید 6 روپے فی کلو کا اضافہ کر دیا۔ اس اضافے کے بعد ملز کی جانب سے جاری کردہ نرخوں کے مطابق آٹا نمبر 2.5 کی قیمت 161 روپے، میدہ 173 روپے اور فائن آٹا 176 روپے فی کلو ہو گیا۔ گزشتہ چند دنوں میں ملرز کی جانب سے کیا گیا مجموعی اضافہ 20 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے، اور خدشہ ہے کہ پرچون فروش آنے والے دنوں میں اس کا اثر صارفین پر منتقل کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی 15 اکتوبر کی گندم ریلیز کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

صارفین کو ریلیز سے کیا فائدہ ہوگا؟

وزیراعلیٰ سندھ نے واضح ہدایت کی ہے کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ سندھ مارکیٹ کے رجحانات کی مسلسل نگرانی کرے اور یقینی بنائے کہ سرکاری مداخلت کا فائدہ مستحکم یا کم آٹے کی قیمتوں کی صورت میں صارفین تک پہنچے۔ حکومت کا مقصد صرف ملز کو سستی گندم دینا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ اس کا براہِ راست فائدہ عام گھرانوں کو ملے جو مہنگائی کے اس دور میں آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی بڑھتی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر ریلیز کا عمل شفاف طریقے سے چلایا جائے اور ضلعی انتظامیہ ملز کی جانب سے قیمتوں کے تعین پر نظر رکھے تو آنے والے ہفتوں میں آٹے کی قیمتوں میں استحکام آنے کا قوی امکان ہے۔ حکومت نے پہلے ہی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کی ہدایت دے رکھی ہے، جو اس پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

اجلاس میں کون کون شریک تھا؟

7 اکتوبر کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں صوبائی وزراء مکیش کمار چاولہ، جام خان شورو اور مخدوم محبوب زمان، مشیر گیانچند ایسرنی، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ اور سیکرٹری فوڈ غلام عباس نائچ سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسٹاک کی صورتحال، سبسڈی کے مالی اثرات اور مارکیٹ کے رجحانات کا جائزہ لینے کے بعد ہی 12,500 روپے فی 100 کلو کی ریلیز قیمت کی منظوری دی گئی۔

پس منظر: یکم اکتوبر کی کابینہ کا فیصلہ

واضح رہے کہ اس سے قبل یکم اکتوبر کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بھی گندم کی بڑھتی قیمتوں پر غور کیا گیا تھا۔ کابینہ کو بتایا گیا تھا کہ صوبے کے پاس 9.19 ملین 100 کلو کی بوریوں سے زائد گندم موجود ہے، جس میں پرانا اور نیا خریدا گیا ذخیرہ، ضبط شدہ گندم، پاسکو کی سپلائی اور ماہ کے آخر تک متوقع درآمدات شامل ہیں۔ کابینہ نے گندم ریلیز پالیسی 2026-27 کی تیاری کی ہدایت کی تھی، اور چیف سیکرٹری نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی تھی کہ لائسنس یافتہ فلور ملز اور چکیوں کو منظم طریقہ کار کے ذریعے سرکاری گندم جاری کی جائے۔ 7 اکتوبر کے اجلاس میں اسی پالیسی کو حتمی شکل دے کر 15 اکتوبر کی تاریخ اور 12,500 روپے کی قیمت کا اعلان کیا گیا۔

سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 7.9 ارب روپے کی اضافی منظوری

گندم ریلیز کے اسی روز وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (SEF) کے لیے بھی بڑا فیصلہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے SEF کے بورڈ آف گورنرز کے 14ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کے پارٹنر اسکولوں — بشمول دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (TCF) کے زیر انتظام اسکولوں — کے لیے سبسڈی کی شرحوں میں نظرثانی کے لیے سالانہ 7.9 ارب روپے کی اضافی مختص رقم کی منظوری دے دی۔ یہ 2021-22 کے بعد پہلی بار SEF کی سبسڈی شرحوں میں نظرثانی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ SEF اس وقت 3,230 اداروں کے ذریعے 1,078,252 طلبہ تک تعلیمی رسائی فراہم کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے وزیر تعلیم، چیئرمین پی اینڈ ڈی اور سیکرٹری فنانس پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی جو سبسڈی میں حتمی ایڈجسٹمنٹ کی سفارش کرے گی۔ اس کے علاوہ مشکل رسائی والے علاقوں میں خدمات کی توسیع کے لیے ایک اسٹریٹجک گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی، جس میں بند اسکولوں کو دوبارہ کھولنا، کم سہولت والے علاقوں میں نئی سہولتیں قائم کرنا اور مرحلہ وار 500 سرکاری کمیونٹی اسکولوں کو فعال بنانا شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اس بات کے لیے پرعزم ہے کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔

کسانوں کے لیے متعلقہ سبسڈی اسکیمیں

گندم سے متعلق حکومت سندھ کی کسان دوست اسکیموں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے یہ رہنما مضامین ضرور پڑھیں:

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: سندھ حکومت فلور ملز کو گندم کب سے جاری کرے گی؟

جواب: سندھ حکومت 15 اکتوبر 2026 سے فلور ملز کو سرکاری گندم جاری کرے گی۔ فی 100 کلو بوری کی قیمت 12,500 روپے مقرر کی گئی ہے۔

سوال: گندم ریلیز کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟

جواب: آٹے کی بڑھتی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور مارکیٹ میں گندم کی وافر سپلائی یقینی بنانے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں آٹا 170 روپے فی کلو تک پہنچ چکا تھا۔

سوال: سندھ کے پاس اس وقت گندم کا کتنا ذخیرہ ہے؟

جواب: اس وقت صوبے کے پاس 346,414 میٹرک ٹن گندم موجود ہے۔ پاسکو سے 190,000 اور درآمدی 300,000 میٹرک ٹن کے اضافے کے بعد ریلیز کے لیے کل 836,414 میٹرک ٹن گندم دستیاب ہوگی۔

سوال: کیا اس ریلیز سے آٹا سستا ہوگا؟

جواب: وزیراعلیٰ نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی ہے کہ سبسڈی کا فائدہ صارفین تک پہنچے اور مارکیٹ کی کڑی نگرانی کی جائے۔ شفاف عمل درآمد کی صورت میں آٹے کی قیمتوں میں استحکام کا قوی امکان ہے۔

سوال: سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے کیا منظوری دی گئی؟

جواب: وزیراعلیٰ نے SEF کے پارٹنر اسکولوں کی سبسڈی شرحوں میں نظرثانی کے لیے سالانہ 7.9 ارب روپے کی اضافی رقم کی منظوری دی ہے، جس سے 3,230 اداروں کے 1,078,252 سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے۔

نتیجہ

سندھ گندم ریلیز 2026 صوبے کے کروڑوں صارفین کے لیے ایک اہم ریلیف اقدام ہے۔ 12,500 روپے فی 100 کلو کی سبسڈی والی قیمت پر 15 اکتوبر سے گندم کی ریلیز، 836,414 میٹرک ٹن کے مضبوط ذخائر اور مارکیٹ کی سخت نگرانی — یہ تینوں اقدامات مل کر آٹے کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ساتھ ہی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 7.9 ارب روپے کی منظوری ظاہر کرتی ہے کہ حکومت خوراک کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے۔ اس مضمون کو اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ شیئر کریں تاکہ یہ اہم معلومات ہر گھر تک پہنچیں، اور سندھ کی سرکاری اسکیموں کی تازہ ترین خبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیں۔

حوالہ: ڈان — گندم ریلیز کی خبر

🔗 سرکاری ماخذ (Official Source): https://food.gos.pk/