
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آسان خدمت مراکز قائم ہوں گے
Gilgit Baltistan Ajk Asaan Khidmat کی تازہ ترین تفصیل، اہلیت اور اپلائی کا مکمل طریقہ اس آرٹیکل میں جانیں۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی تازہ ترین تفصیل، اہلیت اور اپلائی کا مکمل طریقہ اس آرٹیکل میں جانیں۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ وفاقی حکومت نے آسان خدمت مراکز کے قیام کے منصوبے پر عملی پیش رفت شروع کر دی ہے، اور ان دونوں خطوں میں مراکز کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے سے ان علاقوں کے شہریوں کو نادرا، پاسپورٹ اور دیگر وفاقی خدمات ایک ہی چھت کے نیچے میسر آ سکیں گی، جس سے انہیں دور دراز کے شہروں کے چکر لگانے سے نجات ملے گی۔
یہ فیصلہ 6 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے کی۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اجلاس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آسان خدمت مراکز کے قیام کا جائزہ لیا گیا، جبکہ دیگر شہروں تک ان خدمات کی توسیع کے مختلف ماڈلز پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں کیا اہم فیصلے ہوئے؟ — آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان — Gilgit Baltistan Ajk Asaan Khidmat
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر احد چیمہ نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ان مراکز کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل فوری طور پر شروع کریں۔ وزیر نے واضح کیا کہ ان مراکز کے قیام کے لیے وفاقی حکومت مطلوبہ فنڈز فراہم کرے گی، تاکہ مالی رکاوٹیں اس عوامی سہولت کی راہ میں حائل نہ ہوں۔
اجلاس میں دونوں خطوں کے چیف سیکرٹریز نے ورچوئل شرکت کی اور ٹینڈرنگ کا عمل آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق کام میں تیزی لائی جائے، تاکہ یہ مراکز جلد از جلد عوام کی خدمت کے لیے فعال ہو سکیں۔
مراکز چلانے کے تین ماڈلز زیر غور — آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان — Gilgit Baltistan Ajk Asaan Khidmat
اجلاس میں صرف آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک محدود نہیں رہا گیا، بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں آسان خدمت مراکز کی خدمات کی توسیع کے لیے مختلف آپریشنل ماڈلز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ زیر غور تین ماڈلز یہ ہیں:
1۔ ہائبرڈ ماڈل
اس ماڈل کے تحت حکومت سہولتیں اور عمارت فراہم کرے گی، جبکہ روزمرہ کے انتظامات نجی شعبے کے سپرد ہوں گے۔ اس طرح سرکاری نگرانی برقرار رہے گی اور نجی شعبے کی کارکردگی سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
2۔ مکمل نجی ماڈل
اس ماڈل میں حکومت صرف لائسنس جاری کرے گی، جبکہ عمارت کا انتظام اور تمام آپریشنز نجی ادارہ خود سنبھالے گا۔ تاہم اس ماڈل میں شہریوں کے تحفظ کے لیے خصوصی شرائط رکھی جائیں گی۔
3۔ سرکاری ماڈل
تیسرا ماڈل مکمل طور پر حکومت کے زیر انتظام ہوگا، جس میں تمام سہولتیں اور انتظامات سرکاری ادارے خود چلائیں گے۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ان ماڈلز پر فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کی جائے اور اس کی بنیاد پر تجاویز وزیراعظم کو پیش کی جائیں، تاکہ حتمی فیصلہ اعلیٰ سطح پر کیا جا سکے۔
شہریوں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا
اجلاس کی ایک اہم بات یہ تھی کہ وفاقی وزیر نے واضح کر دیا کہ یہ منصوبہ عوام کی سہولت کے لیے ہے، اس لیے اس کی لاگت عوام پر منتقل نہیں کی جائے گی۔ نجی شعبے کے کسی بھی ماڈل میں مناسب ریونیو شیئرنگ کا نظام رکھا جائے گا، اور ایسے حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے جن سے نجی آپریٹرز شہریوں سے اضافی فیس وصول نہ کر سکیں۔
اجلاس میں نادرا اور امیگریشن و پاسپورٹس ڈیپارٹمنٹ سمیت ان تمام محکموں کے ساتھ ریونیو شیئرنگ کے انتظام کا جائزہ لینے کی بھی ہدایت کی گئی جو ان مراکز پر خدمات فراہم کریں گے۔ وزیر کا کہنا تھا کہ متعلقہ محکمے آپریشنل اخراجات میں حصہ ڈالیں، کیونکہ حکومت انہیں عمارت اور بنیادی سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔
آسان خدمت مرکز کیا ہے؟
آسان خدمت مراکز دراصل ون ونڈو سروس کا تصور ہے، جہاں شہری ایک ہی جگہ سے متعدد سرکاری خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں قائم پاکستان آسان خدمت مرکز اس کی کامیاب مثال ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں برس جنوری سے ستمبر تک اسلام آباد کے مرکز میں ایک لاکھ 71 ہزار سے زائد درخواستیں نمٹائی گئیں، اور 99.5 فیصد شہریوں نے خدمات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اوسطاً ہر شہری کو صرف 3 سے 10 منٹ میں خدمت فراہم کی گئی۔
اس کامیابی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے تقریباً ایک ہفتہ قبل ملک بھر میں آسان خدمت مراکز کی توسیع کا حکم دیا تھا، اور اسی سلسلے میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مراکز کے قیام کی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا تھا۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم گلگت میں پاکستان آسان خدمت مرکز قائم کرنے کے وفاقی منصوبے کا اعلان کر چکے ہیں۔
گلگت بلتستان کے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟
گلگت بلتستان جیسے پہاڑی اور دور افتادہ خطے کے لیے یہ منصوبہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں کے شہریوں کو شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر وفاقی خدمات کے لیے اکثر بڑے شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے، جس میں وقت اور پیسہ دونوں خرچ ہوتے ہیں۔ آسان خدمت مراکز کے قیام سے:
- نادرا اور پاسپورٹ سمیت متعدد خدمات ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہوں گی۔
- شہریوں کو طویل سفر اور قطاروں سے نجات ملے گی۔
- خدمات کی فراہمی کا وقت کم ہوگا، جیسا کہ اسلام آباد کے مرکز میں 3 سے 10 منٹ کی اوسط دیکھی گئی۔
- شفاف نظام کے تحت اضافی فیسوں سے تحفظ ملے گا۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
اجلاس کے فیصلوں کے بعد اب اگلا مرحلہ ٹینڈرنگ کے عمل کا باقاعدہ آغاز ہے، جس کی ذمہ داری آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز کو سونپی گئی ہے۔ ساتھ ہی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کر کے تینوں ماڈلز کی تجاویز وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی، جس کے بعد حتمی آپریشنل ماڈل کا انتخاب ہوگا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کی یقین دہانی کے بعد توقع ہے کہ اس منصوبے پر کام کی رفتار تیز ہوگی۔ ہم اس پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں، اور جیسے ہی ٹینڈرنگ یا مرکز کے مقام سے متعلق مزید سرکاری اعلانات سامنے آئیں گے، آپ کو یہاں مکمل تفصیل فراہم کی جائے گی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
آسان خدمت مراکز میں کون سی خدمات ملیں گی؟
سرکاری اعلامیے کے مطابق ان مراکز پر نادرا اور امیگریشن و پاسپورٹس ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر وفاقی محکموں کی خدمات فراہم کی جائیں گی۔ حتمی فہرست کا اعلان مراکز کے فعال ہونے پر کیا جائے گا۔
کیا ان مراکز پر اضافی فیس لی جائے گی؟
نہیں۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا ہے کہ نجی ماڈل میں بھی ایسے حفاظتی اقدامات ہوں گے کہ آپریٹرز شہریوں سے اضافی چارجز وصول نہ کر سکیں، اور منصوبے کی لاگت عوام پر منتقل نہیں ہوگی۔
گلگت بلتستان میں مرکز کب قائم ہوگا؟
6 اکتوبر 2026 کے اجلاس میں ٹینڈرنگ شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ٹینڈرنگ اور فزیبلٹی مکمل ہونے کے بعد تعمیر و تنصیب کا شیڈول سامنے آئے گا۔
کیا یہ سہولت صرف گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک محدود رہے گی؟
نہیں۔ اجلاس میں دیگر شہروں تک توسیع کے ماڈلز پر بھی غور کیا گیا، اور وزیراعظم پہلے ہی ملک بھر میں توسیع کی ہدایت کر چکے ہیں۔
اس خبر کی تصدیق کہاں سے ہوئی؟
یہ خبر سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی 6 اکتوبر 2026 کی پریس ریلیز پر مبنی ہے، جس میں وفاقی وزیر احد چیمہ کی زیر صدارت اجلاس کی تفصیلات جاری کی گئیں۔
متعلقہ خبریں: آزاد کشمیر کے سرکاری ملازمین کے لیے ویلفیئر فنڈ میں حالیہ اضافے کی تفصیل یہاں پڑھیں، اور نادرا میں ملازمتوں کے حالیہ مواقع یہاں دیکھیں۔
🔗 سرکاری ماخذ (Official Source): https://www.ajk.gov.pk/
