Government Subsidy SchemesPakistan Government SchemesPunjab

پنجاب کے کسانوں کے لیے بڑی خوشخبری! Apna Kisan Bank کا اعلان — 10 کروڑ تک بغیر سود قرض، کسان کارڈ کی حد 33,500 روپے

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بدھ 28 اکتوبر 2026 کو کسانوں کے لیے 10 بڑے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں سب سے نمایاں اعلان Apna Kisan Bank کا قیام ہے۔ Apna Kisan Bank پنجاب کا پہلا کسان بینک ہوگا، جس کے ذریعے کسانوں کو 10 کروڑ روپے تک بغیر سود قرض دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ کسان کارڈ کی فی ایکڑ حد بھی بڑھا دی گئی ہے اور گندم کی امدادی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔ یہ پیکیج پنجاب کے چھوٹے، درمیانے اور بڑے تمام کسانوں کے لیے ہے، اور اس کا مقصد زرعی لاگت میں کمی، پیداوار میں اضافہ اور کسان کی آمدن بہتر بنانا ہے۔

Apna Kisan Bank کیا ہے؟

Apna Kisan Bank پنجاب حکومت کا نیا اقدام ہے جس کا مقصد کسانوں کو سستا اور آسان زرعی قرض فراہم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کسانوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب ملک کی غذائی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد پورا کرتا ہے، اس لیے کسان کی خوشحالی صوبے کی خوشحالی ہے۔ Apna Kisan Bank کے ذریعے حکومت کسانوں کو مہنگے بینک قرضوں اور ساہوکاروں کے چنگل سے نکالنا چاہتی ہے۔ اس بینک سے کسان ٹریکٹر، سولر ٹیوب ویل، کھاد، بیج، زرعی مشینری اور ویلیو ایڈیشن کے منصوبوں کے لیے قرض لے سکیں گے۔

Apna Kisan Bank کے قرض کی 3 درجے

اعلان کے مطابق Apna Kisan Bank کے تحت قرض تین درجوں میں دیا جائے گا:

  • 10 کروڑ روپے تک — صفر مارک اپ: 10 کروڑ روپے تک کا قرض مکمل طور پر بغیر سود ہوگا۔ یہ چھوٹے اور درمیانے کسانوں کے لیے ہے۔
  • 30 کروڑ روپے تک — صرف 2 فیصد شرح سود: 30 کروڑ روپے تک کے قرض پر صرف 2 فیصد سود لیا جائے گا۔
  • 50 کروڑ روپے تک — صرف 5 فیصد شرح سود: 50 کروڑ روپے تک کے قرض پر 5 فیصد سود ہوگا، جو بڑے کسانوں اور زرعی کاروبار کے لیے ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حکومت پہلے ہی 17 ارب روپے کے سبسڈی والے زرعی قرضے فراہم کر رہی ہے۔ کسان کارڈ اسکیم سے 10 لاکھ سے زیادہ چھوٹے کسان فائدہ اٹھا رہے ہیں اور قرض کی واپسی تقریباً 100 فیصد ہے، جو اس اسکیم کی کامیابی کی بڑی دلیل ہے۔ حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ ٹھیکے پر کاشت کرنے والے کسانوں اور لیز ہولڈرز کو بھی اس پروگرام میں شامل کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Apna Kisan Bank اور کسان کارڈ کی نئی حد

Apna Kisan Bank کے اعلان کے ساتھ پنجاب کسان کارڈ کی حد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلے کسان کارڈ کے ذریعے فی ایکڑ 30,000 روپے ملتے تھے، اب یہ حد 3,500 روپے بڑھا کر 33,500 روپے فی ایکڑ کر دی گئی ہے۔ یعنی 5 ایکڑ کے کسان کو اب 1,67,500 روپے تک کی سہولت مل سکے گی۔ کسان کارڈ کی ڈیجیٹل ادائیگی سے میرٹ پر رقم ملتی ہے اور درمیانی افراد کا کردار ختم ہوا ہے۔ کسان کارڈ کے ذریعے بیج، کھاد اور زرعی ادویات خریدی جا سکتی ہیں۔

Apna Kisan Bank کے ساتھ گندم کی امدادی قیمت 4,500 روپے فی من

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ حکومت وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق گندم کی امدادی قیمت 4,500 روپے فی من پر عمل درآمد کرے گی۔ اس سے گندم کے کاشتکاروں کو ان کی لاگت کا بہتر معاوضہ ملے گا اور گندم کی کاشت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ اسی سلسلے میں اپنا کھیت، اپنا روزگار اقدام کے تحت گندم کی کاشت کے لیے مراعات اور مالی مدد دی جا رہی ہے، جبکہ گندم کی خریداری کا منصوبہ اور ڈیجیٹل عمل کے لیے آن لائن پورٹل جلد شروع کیا جائے گا۔ قارئین نوٹ کریں کہ گندم کی خریداری کے طریقہ کار کی تفصیل ابھی جاری ہونا باقی ہے، اس لیے صرف سرکاری اعلان پر اعتماد کریں۔

متعلقہ اسکیموں کی تفصیل یہاں پڑھیں: Green Tractor Scheme 2026 Punjab اور Punjab Flour Subsidy 2026۔

Apna Kisan Bank کے علاوہ دیگر بڑے اقدامات

10 نکاتی پیکیج میں زراعت کی جدید کاری اور کسان کی سہولت کے لیے کئی اور اعلانات بھی کیے گئے:

  • مشینری: 25,000 ٹریکٹر پہلے ہی سبسڈی پر دیے جا چکے ہیں، جبکہ گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت مزید 50,000 ٹریکٹر دیے جا رہے ہیں۔ ہائی ٹیک زرعی مشینری کے لیے 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اور ملک میں پہلی ہارویسٹر اسمبلی اور ٹریکٹر سازی کے پلانٹ لگائے جائیں گے۔ مقامی کمپنیاں سالانہ تقریباً 30,000 ٹریکٹر بنا رہی ہیں۔
  • ایگرو پروسیسنگ پارکس: سرگودھا، بھکر، خانیوال اور اوکاڑہ میں ایگرو پروسیسنگ پارکس بنائے جا رہے ہیں، جہاں آم، کینو، مالٹا، آلو اور دیگر فصلوں کی گریڈنگ، پروسیسنگ اور اسٹوریج کی سہولت ہوگی تاکہ فصل ضائع نہ ہو اور برآمدات بڑھیں۔
  • آبپاشی: پوٹھوہار میں 400 چھوٹے ڈیم بنائے جا رہے ہیں، واٹر کورسز کی لائننگ، نہروں کی صفائی اور پانی چوری کے خلاف مہم جاری رہے گی، جبکہ جدید اور طاقتور آبپاشی نظام بھی فراہم کیے جائیں گے۔
  • زیتون کی کاشت: زیتون کی کاشت کے لیے خصوصی پیکیج اور سبسڈی کا اعلان کیا گیا۔ پاکستان اب انٹرنیشنل اولیو کونسل کا مستقل رکن بن گیا ہے، جس سے زیتون کی برآمدات کے نئے دروازے کھلیں گے۔
  • لائیو اسٹاک: گزشتہ سال 4 لاکھ جانور فربہ کیے گئے، جبکہ اس سال 6 لاکھ جانور تیار کرنے کا ہدف ہے۔
  • زرعی انٹرنز اور لیبارٹریز: 1,500 زرعی انٹرنز فیلڈ میں کام کر رہے ہیں جنہیں ماہانہ 70,000 روپے دیے جا رہے ہیں، اور مٹی کی زرخیزی اور پانی کی جانچ کے لیے موبائل لیبارٹریز متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
  • سموگ کے خلاف اپیل: وزیراعلیٰ نے کسانوں سے اپیل کی کہ فصل کی باقیات کو آگ نہ لگائیں تاکہ سموگ میں کمی آ سکے۔

Apna Kisan Bank سے کس کو فائدہ ہوگا؟

Apna Kisan Bank سے پنجاب کے چھوٹے، درمیانے اور بڑے تمام کسان فائدہ اٹھا سکیں گے۔ چھوٹے کسانوں کے لیے بغیر سود قرض سب سے بڑی سہولت ہے، جبکہ درمیانے اور بڑے کسان کم شرح سود پر مشینری، ڈیری، کولڈ اسٹوریج اور ویلیو ایڈیشن کے منصوبوں کے لیے قرض لے سکیں گے۔ ٹھیکے پر کاشت کرنے والے کسانوں کو بھی شامل کرنے کا اعلان اس پیکیج کو مزید جامع بناتا ہے۔

Apna Kisan Bank کے لیے اہم احتیاط

قارئین کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ Apna Kisan Bank کی درخواست کا تفصیلی طریقہ کار، اہلیت کی شرائط اور فارم ابھی جاری نہیں ہوئے ہیں — یہ بینک 28 اکتوبر 2026 کو اعلان کی سطح پر سامنے آیا ہے۔ اس لیے کسی بھی شخص کو درخواست کے نام پر پیسے نہ دیں، اور نہ ہی کسی غیر سرکاری نمبر یا ایجنٹ پر اعتماد کریں۔ درخواست کا طریقہ کار جاری ہوتے ہی پنجاب محکمہ زراعت اور بینک آف پنجاب کے ذریعے سرکاری طور پر بتایا جائے گا۔ ہم اس مضمون کو سرکاری تفصیل آتے ہی اپ ڈیٹ کریں گے۔

مزید تفصیلات یہاں ملاحظہ کریں: مزید معلومات اور تفصیلات دیکھیں۔

پنجاب حکومت کی سرکاری ویب سائٹ دیکھیں — Punjab Government Official Website

Apna Kisan Bank اور کسان کارڈ سے متعلق سرکاری اعلانات کے لیے پنجاب حکومت کی سرکاری ویب سائٹ ملاحظہ کریں

خلاصہ یہ ہے کہ Apna Kisan Bank پنجاب کے کسانوں کے لیے ایک تاریخی قدم ہے — 10 کروڑ تک بغیر سود قرض، کسان کارڈ کی حد 33,500 روپے فی ایکڑ، گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من، اور مشینری، آبپاشی و زیتون کے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری۔ کسان بھائی اس پیکیج سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، لیکن درخواست صرف سرکاری اعلان کے بعد سرکاری طریقے سے جمع کرائیں۔

ماخذ: وزیراعلیٰ پنجاب کا 28 اکتوبر 2026 کو کسانوں سے خطاب؛ اعلان کی خبر متعدد نیوز ذرائع نے شائع کی ہے۔ درخواست کا تفصیلی طریقہ کار ابھی جاری نہیں ہوا۔