Government Subsidy SchemesWafaq - All Pakistan

90 لاکھ افراد کو سستا پیٹرول مل گیا! Fuel Subsidy Scheme Senate Briefing 2026 — ایک کروڑ رجسٹرڈ، 9700 پمپس پر رعایت

Fuel Subsidy Scheme Senate Briefing 2026: حکومت کی فیول سبسڈی اسکیم نے ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے! سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو 12 اکتوبر 2026 کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 90 لاکھ افراد سستا پیٹرول حاصل کر چکے ہیں، جبکہ ایک کروڑ افراد اس اسکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔

Fuel Subsidy Scheme Senate Briefing 2026

Fuel Subsidy Scheme Senate Briefing 2026: سینیٹ بریفنگ کی اہم تفصیلات

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹر منظور احمد کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں 9700 فیول اسٹیشنز اس اسکیم کے تحت صارفین کو رعایت فراہم کر رہے ہیں۔ کمیٹی کو پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار، روزانہ قیمتوں کا حساب، اسٹاک کی دستیابی اور پیٹرولیم ڈویژن، اوگرا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ذمہ داریوں پر بھی بریف کیا گیا۔

بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ Fuel Subsidy Scheme Senate Briefing 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق رجسٹریشن کا عمل مسلسل جاری ہے اور ہر ہفتے لاکھوں نئے شہری اس اسکیم میں شامل ہو رہے ہیں۔ کمیٹی اراکین نے اسکیم کی شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ دور دراز علاقوں میں بھی فیول اسٹیشنز کی تعداد بڑھائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

Petrol Subsidy 2026: 75 ارب روپے کی سبسڈی

وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ فیول سبسڈی اسکیم جاری رہے گی، جس کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اب تک 21.7 ملین ٹوکن جاری کیے گئے ہیں جن میں سے 19.4 ملین ٹوکن استعمال کر کے شہریوں نے سستا فیول حاصل کیا ہے۔

Petrol Subsidy 2026 کے تحت یہ مالی معاونت براہ راست مستحق شہریوں تک پہنچائی جا رہی ہے۔ 75 ارب روپے کی یہ خطیر رقم حکومت کے اس عزم کی عکاس ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں عام آدمی کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ٹوکن سسٹم نے اسکیم میں شفافیت کو یقینی بنایا ہے اور بدعنوانی کے امکانات کو نمایاں حد تک کم کر دیا ہے۔

کون اہل ہے؟

یہ اسکیم موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور 800cc تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ہے۔ فی لیٹر 100 روپے کی رعایت دی جا رہی ہے۔

Sasta Petrol Scheme Pakistan کے تحت اہلیت کا معیار نہایت آسان رکھا گیا ہے۔ موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کے ساتھ ساتھ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے والے کم آمدنی والے طبقے کو براہ راست فائدہ پہنچایا جائے، کیونکہ یہی طبقہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔

9771 Fuel Registration: رجسٹریشن کا طریقہ

9771 پر SMS بھیجیں اس فارمیٹ میں: REG [شناختی کارڈ نمبر] [گاڑی نمبر] [صوبے کا کوڈ] [رجسٹریشن کی تاریخ]

صوبے کے کوڈ: I = اسلام آباد، P = پنجاب، S = سندھ، K = خیبر پختونخوا، B = بلوچستان، A = آزاد کشمیر، G = گلگت بلتستان

منظوری کے بعد TOK لکھ کر 9771 پر بھیجیں — آپ کو ڈیجیٹل فیول ٹوکن ملے گا۔

9771 Fuel Registration کا عمل مکمل طور پر مفت ہے اور اس کے لیے کسی ایجنٹ یا دفتر جانے کی ضرورت نہیں۔ رجسٹریشن کی تصدیق ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہوتی ہے، جس کے بعد صارف ڈیجیٹل ٹوکن حاصل کر کے ملک بھر کے 9700 منظور شدہ فیول اسٹیشنز میں سے کسی پر بھی رعایت حاصل کر سکتا ہے۔

Sasta Petrol Scheme Pakistan: پس منظر اور اثرات

Petrol Subsidy 2026 کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا تھا۔ حکومت نے کم آمدنی والے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے یہ اسکیم شروع کی تھی۔

اس اسکیم کے اثرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ 90 لاکھ مستفید افراد میں اکثریت موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ ڈرائیوروں کی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ایندھن خریدتے ہیں۔ فی لیٹر 100 روپے کی رعایت سے ایک عام موٹر سائیکل سوار ماہانہ ہزاروں روپے کی بچت کر رہا ہے، جو مہنگائی کے اس دور میں ایک بڑی راحت ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ Fuel Subsidy Scheme Senate Briefing 2026 میں پیش کیے گئے اعداد و شمار اس اسکیم کی کامیابی کی واضح دلیل ہیں۔ 19.4 ملین ٹوکن کے استعمال سے نہ صرف شہریوں کو براہ راست فائدہ پہنچا بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں استحکام بھی آیا، جس سے عام اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا۔

Fuel Subsidy Scheme Senate Briefing 2026: اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: 9771 پر رجسٹریشن کے بعد ٹوکن کب ملتا ہے؟ جواب: منظوری کے بعد TOK لکھ کر 9771 پر بھیجنے پر ڈیجیٹل فیول ٹوکن فوری طور پر ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہو جاتا ہے۔

سوال: کیا ایک شناختی کارڈ پر ایک سے زائد گاڑیاں رجسٹر ہو سکتی ہیں؟ جواب: ہر گاڑی کے لیے الگ رجسٹریشن ضروری ہے، تاہم ایک شناختی کارڈ سے متعدد گاڑیوں کی رجسٹریشن کی جا سکتی ہے۔

سوال: کیا یہ اسکیم 2026 کے بعد بھی جاری رہے گی؟ جواب: وزیراعظم کے اعلان کے مطابق اسکیم کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

(ذرائع: ریڈیو پاکستان، ٹیک جوائس، اے پی نیوز — 12 اکتوبر 2026)