
ماؤں کے لیے بڑی خبر: HIV Children Monthly Aid کے تحت ماہانہ 40 ہزار روپے — 157 بچوں کے بینک اکاؤنٹس کھلنا شروع
کراچی کے دو سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج بچوں کے خاندانوں کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ HIV Children Monthly Aid کے تحت سندھ کے محکمہ محنت اور سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI) نے 157 متاثرہ بچوں کی ماؤں کو ماہانہ 40 ہزار روپے مالی امداد دینے کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ رقم بچوں کی خوراک اور دیگر ضروریات کے لیے دی جا رہی ہے، جبکہ بڑی تعداد میں ماؤں کو اے ٹی ایم کارڈز بھی جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ امداد براہ راست اور شفاف طریقے سے ان تک پہنچ سکے۔ HIV Children Monthly Aid کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
HIV Children Monthly Aid کیا ہے؟
HIV Children Monthly Aid سندھ حکومت کے محکمہ محنت اور SESSI کی جانب سے متاثرہ بچوں کے خاندانوں کے لیے شروع کی گئی ماہانہ مالی امداد ہے۔ حکام کے مطابق اکاؤنٹس سندھ بینک میں کھولے جا رہے ہیں اور ہر رجسٹرڈ بچے کی ماں کو ماہانہ 40 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ وزیر محنت سندھ سعید غنی اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ جن خاندانوں میں متاثرہ بچوں کی تعداد زیادہ ہوگی، انہیں ماہانہ 40 ہزار سے 80 ہزار روپے تک امداد دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ علاج کے ساتھ ساتھ بچوں کی خوراک اور گھریلو ضروریات کا بوجھ بھی کم ہو سکے۔
HIV Children Monthly Aid کن اسپتالوں کے بچوں کو ملے گی؟
یہ امداد اس وقت کراچی کے دو SESSI اسپتالوں میں رجسٹرڈ بچوں کے خاندانوں کے لیے ہے:
- کلثوم بائی ولیکا سوشل سیکیورٹی اسپتال، سائٹ: یہاں تقریباً 130 بچے رجسٹرڈ ہیں۔ تقریباً 100 ماؤں کے سندھ بینک میں اکاؤنٹس کھل چکے ہیں اور انہیں اے ٹی ایم کارڈز بھی مل چکے ہیں۔
- SESSI پوسٹ گریجویٹ ٹیچنگ اسپتال، لانڈھی: یہاں تقریباً 27 بچے رجسٹرڈ ہیں۔ تقریباً 15 ماؤں کے اکاؤنٹس کھول کر اے ٹی ایم کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔
حکام کے مطابق دونوں اسپتالوں کے تمام 157 بچوں کے خاندانوں کے لیے یہ عمل جاری ہے اور باقی ماؤں کے اکاؤنٹس بھی کھولے جا رہے ہیں۔ HIV Children Monthly Aid کے تحت یہ سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔
HIV Children Monthly Aid کی رقم کیسے ملے گی؟
امداد کی رقم ماں کے سندھ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی، جسے اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے نکلوایا جا سکے گا۔ تاہم حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ماہانہ امداد کتنی مدت تک جاری رہے گی، اور یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ ادائیگیاں انڈومنٹ فنڈ سے ہوں گی یا کسی الگ انتظام کے تحت کی جائیں گی۔ اس حوالے سے مزید وضاحت آنے پر یہ خبر اپڈیٹ کی جائے گی۔
بچوں کے علاج کے لیے 2 ارب روپے کا انڈومنٹ فنڈ بھی منظور
ماہانہ امداد کے علاوہ SESSI نے متاثرہ بچوں کے طویل المدتی علاج اور فلاح و بہبود کے لیے 2 ارب روپے کے انڈومنٹ فنڈ کی منظوری بھی دی ہے۔ 14 اکتوبر کو ہونے والے گورننگ باڈی اجلاس میں وزیر محنت سعید غنی نے ادارے کو ہدایت کی تھی کہ فنڈ کے بورڈ کی تشکیل تیز کی جائے اور اس کے قواعد و پالیسی فریم ورک کو جلد حتمی شکل دی جائے، تاکہ بچوں کے علاج میں کسی مرحلے پر فنڈز کی کمی رکاوٹ نہ بنے۔
پس منظر: یہ معاملہ کب سامنے آیا؟
کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں بچوں کے متاثر ہونے کا معاملہ پہلی بار اکتوبر 2025 میں سامنے آیا تھا۔ ابتدائی انکوائری میں اسپتال کے نظام میں انفیکشن کنٹرول کی کمزوریاں نشاندہی کی گئیں۔ بعد ازاں وسیع اسکریننگ بھی کی گئی، تاہم مختلف انکوائریوں اور ریکارڈز میں سامنے آنے والے اعداد و شمار مختلف گروہوں سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں براہ راست ایک دوسرے سے ملانا درست نہیں۔ محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ افراد کو مفت علاج، ادویات اور مشاورت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ HIV Children Monthly Aid اسی پس منظر میں شروع کی گئی ہے۔
خاندانوں کے لیے اہم معلومات
واضح رہے کہ یہ امداد صرف ان بچوں کے خاندانوں کے لیے ہے جو مذکورہ بالا دو SESSI اسپتالوں میں رجسٹرڈ ہیں۔ اس کے لیے کسی الگ آن لائن درخواست یا فارم کا اعلان نہیں کیا گیا، لہٰذا کسی بھی غیر مصدقہ لنک یا ایجنٹ پر اعتماد نہ کریں۔ متعلقہ خاندان مزید رہنمائی کے لیے اپنے اسپتال کی انتظامیہ یا SESSI دفتر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ بچوں کے لیے صوبائی امداد کی ایک اور مثال Sindh Child Support Program 2026 ہے، جبکہ SESSI کی دیگر اسکیموں کے لیے SESSI Internship 2026 کی تفصیل بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
سرکاری ماخذ (Official Source): یہ خبر The News کی رپورٹ پر مبنی ہے — Sindh begins monthly aid process for mothers of 157 HIV-positive children۔ متعلقہ ادارے: محکمہ محنت سندھ اور سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (SESSI)۔ sindhschemes.com ایک آزاد معلوماتی ویب سائٹ ہے، یہ کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہے۔
