
پاسبان ریمیٹنس اسکیم 2026: 16 ارب کے انعامات جیتیں
پاسبان ریمیٹنس اسکیم کیا ہے؟
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے پاسبان ریمیٹنس اسکیم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اسکیم کا افتتاح جمعہ، 25 ستمبر 2026 کو کراچی میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کیا۔ پاسبان ریمیٹنس اسکیم پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (PBA) کے زیر اہتمام اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سرپرستی میں تیار کی گئی ہے۔ اسکیم کا مقصد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو رسمی بینکنگ چینلز کے ذریعے رقوم بھیجنے کی ترغیب دینا ہے۔

پاسبان ریمیٹنس اسکیم کے تحت بینکنگ انڈسٹری ہر سال 16 ارب روپے کے نقد انعامات دے گی۔ یہ پوری رقم حصہ لینے والے بینک خود فراہم کریں گے اور قومی خزانے پر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔ یعنی یہ حکومت کی فنڈنگ کے بغیر چلنے والی مکمل مارکیٹ پر مبنی اسکیم ہے۔ پاسبان ریمیٹنس اسکیم کی سب سے منفرد بات یہ ہے کہ انعام پیسے بھیجنے والے بیرونِ ملک پاکستانی کو نہیں بلکہ پاکستان میں رقم وصول کرنے والے شخص کو ملے گا۔
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ کارکنان کی ترسیلاتِ زر (workers’ remittances) پاکستان کے لاکھوں خاندانوں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، جن سے گھر کے اخراجات، تعلیم، صحت اور سرمایہ کاری میں مدد ملتی ہے۔ مالی سال 2026 میں پاکستان کو ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جبکہ مالی سال 2019 میں یہ رقم صرف 21.7 ارب ڈالر تھی۔ توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں یہ حجم 44 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔
انعامات کی مکمل تفصیل
پاسبان ریمیٹنس اسکیم کے تحت ہر سہ ماہی (quarter) میں 2,521 نقد انعامات تقسیم کیے جائیں گے، جن کی مجموعی مالیت 4 ارب روپے ہوگی۔ سال بھر میں 10,000 سے زائد خوش نصیب انعامات جیت سکیں گے۔ پاسبان ریمیٹنس اسکیم کی ہر سہ ماہی قرعہ اندازی میں انعامات کی تقسیم اس طرح ہوگی:
| انعامی درجہ | انعام کی رقم | فاتحین کی تعداد |
|---|---|---|
| پہلا انعام | 10 کروڑ روپے | 1 |
| دوسرا انعام | 2.5 کروڑ روپے | 20 |
| تیسرا انعام | 1 کروڑ روپے | 100 |
| چوتھا انعام | 10 لاکھ روپے | 2,400 |
پہلا انعام (10 کروڑ روپے) تمام اہل وصول کنندگان کے لیے کھلا ہوگا، چاہے رقم دنیا کے کسی بھی ملک سے بھیجی گئی ہو۔ پہلے انعام کے علاوہ باقی انعامات علاقائی پولز کے ذریعے تقسیم ہوں گے: خلیج تعاون کونسل (GCC) ممالک سے آنے والی رقوم کے لیے 50 فیصد، برطانیہ کے لیے 15 فیصد، یورپ کے لیے 15 فیصد، شمالی امریکہ کے لیے 10 فیصد اور باقی ممالک کے لیے 10 فیصد۔
اہلیت کی شرائط
پاسبان ریمیٹنس اسکیم میں حصہ لینے کے لیے اہلیت کی شرط بہت سادہ رکھی گئی ہے۔ کسی بھی سہ ماہی کے تینوں مہینوں میں ہر مہینے کم از کم 100 امریکی ڈالر کے برابر رقم رسمی بینکنگ چینل کے ذریعے اپنے اہل بینک اکاؤنٹ یا والٹ میں وصول کرنے والا شخص خودکار طور پر اسکیم میں شامل ہو جائے گا۔
کون اہل ہے؟
- وہ پاکستانی شہری جو بیرونِ ملک سے بھیجی گئی رقم پاکستان میں وصول کرتا ہو۔
- رقم بینک یا کسی قانونی چینل کے ذریعے موصول ہوئی ہو — غیر رسمی ذرائع (ہنڈی/حوالہ) شمار نہیں ہوں گے۔
- سہ ماہی کے تینوں مہینوں (مثلاً اکتوبر، نومبر اور دسمبر) میں ہر مہینے کم از کم 100 ڈالر کے برابر رقم موصول ہو۔
- رقم اہل بینک اکاؤنٹ یا ڈیجیٹل والٹ میں آئی ہو۔
شرکت کا طریقہ — مکمل خودکار اور مفت
پاسبان ریمیٹنس اسکیم میں شرکت کے لیے کوئی درخواست، رجسٹریشن، ٹکٹ کی خریداری یا کم از کم بیلنس کی شرط نہیں۔ شرکت مکمل طور پر خودکار اور مفت ہے۔ اہل وصول کنندہ کو ہر اہل ترسیل پر ڈیجیٹل، ناقابلِ منتقلی انٹری نمبر (ٹکٹ) ملے گا۔
انٹریز کی تعداد موصول ہونے والی رقم کی مالیت کے تناسب سے بڑھتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں ہر مہینے 100 ڈالر وصول کرے تو اسے سہ ماہی کے لیے 3 انٹریاں ملیں گی۔ اور اگر اکتوبر میں 100 ڈالر، نومبر میں 200 ڈالر اور دسمبر میں 300 ڈالر وصول ہوں تو انٹریوں کی کل تعداد 6 ہو جائے گی۔ یعنی جتنی زیادہ رقم رسمی چینل سے آئے گی، جیتنے کے مواقع اتنے ہی بڑھیں گے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق قرعہ اندازی محفوظ، مکمل ڈیجیٹل اور قابلِ آڈٹ عمل کے ذریعے کی جائے گی، تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
قرعہ اندازی کی تاریخیں
پاسبان ریمیٹنس اسکیم یکم اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ پہلی اہل مدت یکم اکتوبر سے 31 دسمبر 2026 تک ہوگی، اور اس مدت کی پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو منعقد کی جائے گی۔ اس کے بعد ہر سہ ماہی باقاعدہ قرعہ اندازی ہوتی رہے گی۔ جو خاندان اکتوبر سے دسمبر کے دوران ہر مہینے کم از کم 100 ڈالر کی ترسیل وصول کریں گے، وہ پہلی قرعہ اندازی میں شامل ہوں گے۔
اسکیم کا پس منظر اور حکومت کا مقصد
حکومت اور اسٹیٹ بینک نے ماضی میں رسمی چینلز کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف ہوم ریمیٹنس انسینٹو اسکیمز متعارف کرائیں۔ وقت کے ساتھ مارکیٹ کی ترقی اور ان اسکیموں کی بڑھتی ہوئی لاگت کے پیشِ نظر اب زیادہ پائیدار اور مارکیٹ پر مبنی ماڈل کی طرف بتدریج منتقلی کی جا رہی ہے، اور پاسبان ریمیٹنس اسکیم اسی منتقلی کا اگلا قدم ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ پاکستان کی بیرونی معاشی پوزیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے — اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر فروری 2023 میں 3 ارب ڈالر سے کم سے بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر ہو گئے ہیں، اور یہ اضافہ بیرونی قرضوں کے بجائے بنیادی طور پر مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری سے ہوا ہے۔ پاسبان اسکیم کا مقصد رسمی چینلز کی کشش برقرار رکھنا اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے تعاون کو تسلیم کرنا ہے۔
یاد رہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسی اسکیموں کی تازہ ترین قسطوں کی معلومات کے لیے ہماری BISP اکتوبر 2026 قسط کی تفصیل بھی ملاحظہ کریں۔
فراڈ سے بچنے کے لیے اہم احتیاط
چونکہ پاسبان ریمیٹنس اسکیم میں شرکت خودکار اور مکمل مفت ہے، اس لیے کوئی بھی شخص یا ایجنٹ اگر رجسٹریشن، ٹکٹ یا فیس کے نام پر پیسے مانگے تو وہ فراڈ ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کسی بینک کو اہل وصول کنندہ سے کوئی فیس، ٹکٹ کی قیمت یا کم از کم بیلنس کی شرط نہیں لگائی جائے گی۔ اپنی بینک کی تفصیلات، او ٹی پی یا شناختی معلومات کسی نامعلوم شخص سے شیئر نہ کریں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
پاسبان ریمیٹنس اسکیم میں رجسٹریشن کیسے کروائیں؟
رجسٹریشن کی کوئی ضرورت نہیں۔ سہ ماہی کے تینوں مہینوں میں ہر مہینے کم از کم 100 ڈالر کے برابر رقم رسمی بینکنگ چینل سے وصول کرنے پر آپ خودکار طور پر اہل ہو جائیں گے۔
پاسبان ریمیٹنس اسکیم میں ہر سہ ماہی میں کتنے انعامات دیے جائیں گے؟
ہر سہ ماہی میں 2,521 نقد انعامات تقسیم ہوں گے جن کی مجموعی مالیت 4 ارب روپے ہے۔ سال بھر میں 10,000 سے زائد افراد انعامات جیتیں گے۔
سب سے بڑا انعام کتنا ہے؟
ہر سہ ماہی قرعہ اندازی میں پہلا انعام 10 کروڑ روپے ہے، جو دنیا کے کسی بھی ملک سے رقم بھیجنے والے کے وصول کنندہ کے لیے کھلا ہے۔
پہلی قرعہ اندازی کب ہوگی؟
اسکیم یکم اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگی۔ پہلی اہل مدت اکتوبر تا دسمبر 2026 ہے اور پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی۔
کیا اسکیم میں حصہ لینے کی کوئی فیس ہے؟
نہیں۔ شرکت مکمل مفت ہے — کوئی درخواست، رجسٹریشن فیس، ٹکٹ کی خریداری یا کم از کم بیلنس کی شرط نہیں۔
